20

سندھ ریونیو بورڈ آئندہ سال سے الیکٹرسٹی ڈیوٹی جمع کرے، وزیراعلیٰ

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے سندھ ریونیو بورڈ (ایس آر بی) کو یہ اختیار دیاہے کہ وہ آئندہ مالی سال سے پاور ڈسٹری بیوشن کمپنیز سے الیکٹرسٹی ڈیوٹی جمع کرے ۔اس موقع پر انھوں نے گزشتہ سالوں کے اکاؤنٹس کی ری کنسائیل اور آڈٹ کے لیے اچھی ساکھ کے حامل آڈیٹر تعینات کرنے کی بھی منظوری دی۔ 

انھوں نے یہ فیصلہ جمعہ کو وزیراعلیٰ ہاؤس میں منعقدہ ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں صوبائی وزیر برائے انرجی امتیاز شیخ، وزیراعلیٰ سندھ کے پرنسپل سیکریٹری ساجد جمال ابڑو، سیکریٹری خزانہ نجم شاہ، سیکریٹری انرجی مصدق خان، سیکریٹری بلدیات خالد حیدر شاہ و دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ سال 16-2015 کے دوران صارفین سے کے الیکٹرک کے بلوں کے یونٹس کے حوالے سے کام کیا گیا تھا اور سندھ حکومت کی جانب سے الیکٹرسٹی ڈیوٹی کے تحت 2.4 بلین روپے جمع کیے گئے تھے اور اس رقم میں باقی کے سالوں سے لے کر اس سال تک لازمی اضافہ ہوا ہے مگر ہمیں ابھی تک اس حوالے سے ایک پیسہ بھی موصول نہیں ہوا ہے۔

انھوں نے صوبائی وزیر انرجی کو ہدایت کی کہ وہ پاور ڈسٹری بیوشن کمپنیوں ، کے الیکٹرک ، حیسکو اور سیپکو کے اکاؤنٹس کے آڈٹ کے لیے آڈیٹر تعینات کریں اور اس حوالے سے یہ کام کیا جائے کہ یہ ادارے سندھ حکومت کو رقم ادا کریں۔

وزیراعلیٰ سندھ نے صوبائی وزیر انرجی امتیاز شیخ ، صوبائی سیکریٹری انرجی مصدق خان اور سیکریٹری خزانہ نجم شاہ پر مشتمل تین رکنی کمیٹی بھی تشکیل دی جوکہ گورنر اسٹیٹ بینک کے ساتھ اجلاس منعقد کرے گی اور ان سے درخواست کرے گی کہ وہ کمرشل بینکوں کو ہدایت کریں کہ وہ بجلی کے بل جمع کرتے ہیں اس میں سے الیکٹرسٹی ڈیوٹی براہ راست سندھ حکومت کے اکاؤنٹ میں جمع کرائیں۔

اسکے ساتھ ساتھ، ایس آر بی اپنے قانون میں ترمیم کے بعد پاور ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کے ساتھ براہ راست ڈیل کرے گی۔ وزیراعلیٰ سندھ نے ایس آر بی کو ہدایت کی کہ وہ اپنے قانون میں ترمیم تجویز کریں تاکہ اسے الیکٹرسٹی ڈیوٹی جمع کرنے ، آڈٹ، الیکٹرسٹی ڈیوٹی اکاؤنٹس کو ری کنسائل کرنے کے حوالے سے مجاز بنایا جاسکے۔

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے بورڈ آف ریونیو کے ایک علیحدہ اجلاس کی صدارت کی اور ای۔اسٹیمپ ڈیوٹی کے منصوبہ کی منظوری دی جس کا آئندہ سال سے آغاز ہوگا۔ اجلاس میں صوبائی وزیر ریونیو مخدوم محبوب الزمان، سینیئر میمبر بورڈ آف ریونیو شمس سومرو، سیکریٹری خزانہ نجم شاہ و دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔

وزیراعلیٰ سندھ کو بتایا گیا کہ انکی سالانہ کلیکشن 10 ارب روپے ہوئی ہے۔ اس پر وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ اسٹیمپ ڈیوٹی کی مد میں چوری ہورہی ہے کیوں کہ یہ کام مینوئل طریقے سے ہو رہا ہے۔ انھوں نے صوبائی وزیر ریونیو کو ہدایت کی کہ وہ ای۔اسٹیمپ ڈیوٹی شروع کریں اس سے انکی کلیکشن ڈبل ہوجائے گی۔

صوبائی وزیر ریونیو مخدوم محبوب الزمان نے وزیراعلیٰ سندھ کو بتایا کہ نادرا سے مشاورت کی گئی ہے کہ وہ ای۔اسٹیمپ ڈیوٹی شروع کرے۔ اس پر وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ جب تک نادرا بورڈ آف ریونیو کے لیے سافٹ ویئر ڈیولپ کرے اس وقت تک پنجاب حکومت نے جس طرح ای ۔اسٹیمپ ڈیوٹی سسٹم متعارف کروایا ہے اسکو دیکھتے ہوئے کام شروع کیا جائے۔

سینئر میمبر بورڈ آف ریونیو نے وزیراعلیٰ سندھ کو بتایا کہ ایف بی آر نے نان فائلرز کے لیے 4 ملین روپے سے زائد کی املاک کی خریداری پر پابندی عائد کر رکھی ہے انھوں نے کہا کہ اس پابندی کے باعث بھی کافی فرق پڑا ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے چیئرمین ایس آر بی کو ہدایت کی کہ وہ سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو کے ساتھ ملکر ریونیو جمع کرنے بالخصوص زرعی ٹیکس میں اضافے کے حوالے سے امور کا جائزہ لیں اور طریقہ کار وضع کریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں