21

ویسٹ اندیز سے شکست: پی سی بی کپتان سرفراز احمد کی حمایت میں سامنے آ گیا

ویسٹ انڈیز کے ہاتھوں ورلڈ کپ میں 7 وکٹ کی ذلت آمیز شکست کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ کپتان سرفراز احمد کی حمایت میں سامنے آ گیا۔

میچ میں شرمناک کارکردگی کے 24 گھنٹے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ کی ویب سائٹ پر سرفراز احمد کا تفصیلی بیان جاری کیا گیا جس میں ان کا کہنا ہے مجھے یقین ہے کہ ہمارے پرستار ویسٹ انڈیز کے خلاف شکست سے مایوس ہوئے ہوں گے، اس وجہ سے بھی کہ ہماری شکست کا انداز اچھا نہیں تھا، ہم بھی ایسی شکست کے انداز سے متاثر ہوتے ہیں۔

سرفراز احمد کا کہنا ہے کہ آندرے رسل نے جو دو وکٹیں، فخر زمان اور حارث سہیل کی حاصل کی تھیں، ان وکٹوں نے ہم پر دباؤ بڑھا دیا تھا اور جب آپ پہلے 10 اوورز میں تین وکٹیں کھو دیں تو واپسی کرنا مشکل ہو جا تا ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں یہ تاثر بھی ختم کرنا چاہتا ہوں کہ یہ 400 سے زیادہ رنز والی پچ تھی، یہ کہا گیا کہ پچھلے سال انگلینڈ نے اس پچ پر 481 رنز بنائے تھے۔ نہیں، یہ ایک نئی پچ تھی اور اس پر گیند رک کر آ رہی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ دن کا میچ ہونے کی وجہ سے وجہ سے پچ پر نمی بھی تھی، اگر آپ کو یاد ہو کہ ہم نے اسی گراؤنڈ پر انگلینڈ کے خلاف چوتھے ون ڈے میں 340 رنز بنائے تھے کیونکہ وہ میچ دیر سے شروع ہوا تھا اور پچ پر نمی نہیں تھی اور گیند مناسب طور پر بیٹ پر آ رہا تھا۔

کپتان قومی ٹیم نے کہا کہ مجھے لگتا ہے کہ ہمارا شاٹ سلیکشن اچھا نہیں تھا اور ہم نے شارٹ پچ گیندوں پر 6 یا 7 وکٹیں گنوائیں، پھر دوسری اہم بات یہ تھی کہ ہم نے شراکت داری نہیں کی، مجھے لگتا ہے کہ آخری وکٹ کی پارٹنرشپ سب سے بڑی تھی، اس کے بعد فخر زمان اور بابر اعظم کی تھی لیکن زیادہ بڑی پارٹنر شپ نہ ہو سکیں۔

ان کا کہنا ہے کہ کیا غلط تھا، میں کچھ چیزیں کہہ سکتا ہوں، ان حقائق کو بتانے سے میں کوئی عذر نہیں پیش کر رہا لیکن یہ بات طے ہے کہ کوئی بھی ورلڈ کپ کا میچ اس طرح نہیں ہارنا چاہتا، میں سمجھتا ہوں کہ سب سے پہلے میچ شروع ہونے کا وقت بہت اہم تھا۔

انہوں نے کہا کہ صبح 10 بجکر 30 منٹ پر میچ شروع ہونا بہت اہم ہے، یہ نتیجہ میں بہت اہم کردار ادا کرتا ہے، میں بھی پہلے بولنگ کرنا چاہتا تھا لیکن ٹاس کبھی آپ کے کنٹرول میں نہیں ہوتا، میں ٹاس ہارا اور ویسٹ انڈیز کے کپتان نے، کسی بھی دوسرے کپتان کی طرح، ہمیں بیٹنگ کرا دی۔

سرفراز احمد نے کہا کہ یہ ایک مشکل میچ ہونے کی توقع تھی، ہم شارٹ پچ گیندوں کے لئے تیار تھے اور ہم نے اس کے لئے تیاری بھی کی تھی لیکن جب ہم بیٹنگ کر رہے تھے تو ہم نے بہت سی وکٹیں ایک کے بعد ایک کھو دیں، یکے بعد دیگرے وکٹوں کے گرنے سے ہم میچ میں واپس نہیں آ سکے۔

ان کا کہنا تھا کہ فخر اور بابر نے ایک اچھا آغاز کیا تھا اور وہ اپنے شاٹس کھیل رہے تھے لیکن بدقسمتی سے فخر کی ان سائیڈ ایج ہو گئی اور بابر کا سافٹ ڈسمسل ہوا۔

انہوں نے کہا کہ ایک اچھا آغاز ہمیشہ اہم ہوتا ہے اور ہمیں یہ اچھی شروعات نہیں مل سکی، ہم نے آصف علی کو کیوں نہیں کھلایا؟ وہ ا سلئے کیونکہ ہم چاہتے تھے کہ پورے بیٹسمین اور پورے بولرز کھلائیں۔

قومی ٹیم کے قائد کا کہنا تھا کہ پانچ بولرز اور 6 بیٹسمین اور محمد حفیظ ہمارے آف اسپنر تھے جنہیں ہم نے ان کے بائیں ہاتھ کے بیٹسمینوں کے خلاف استعمال کرنا تھا، مجھے لگتا ہے کہ ہمارے بالر، خاص طور پر محمد عامر نے اچھی بولنگ کی، عامر کا کم بیک اچھا ہوا ہے، ہم جانتے ہیں کہ وہ قابل ہے اور اگلے میچوں کے لئے بھی ہمارے لئے اچھا کرے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم 105 رنز پر آؤٹ ہوئے تھے، ہمارا اسکور کم تھا اور جب ویسٹ انڈیز کی وکٹیں گریں تو انہوں نے بڑے شاٹس کھیل کر دباؤ کو ہٹایا، اس میں وہ کامیاب ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ اس شکست کے باوجود مجھے یقین ہے کہ ہمارے پاس کم بیک کرنے کی صلاحیت ہے، ہمیں اپنے آپ کو بیک کرنا ہو گا اور پہلے میچ میں کیا ہوا تھا، اس کے بارے میں بہت زیادہ سوچنا نہیں ہے کیونکہ یہ میچ ختم ہو گیا ہے۔

سرفراز احمد کا کہنا ہے کہ ہمارے پاس ایسے کھلاڑی ہیں جو ہمارے لئے اگلے میچ جیت سکتے ہیں، انشااللہ ہم اگلے میچوں میں کم بیک کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ اس ورلڈ کپ میں تمام میچز مشکل ہیں لہذا ہمیں خود کو سنبھالنا ہو گا اور اگلے میچ میں پوری طاقت لگانی ہو گی۔

ان کا کہنا تھا کہ انگلینڈ ایک سخت ٹیم ہے لیکن ہم نے حال ہی میں ان سے ایک سیریز کھیلی ہے لہذا ہم سب کو اپنی بھرپور صلاحیت پر کھیلنے کی ضرورت ہے اور جیت کے ساتھ واپسی کرنی ہے۔

کپتان سرفراز احمد نے ٹورنامنٹ کے فارمیٹ کو اچھا قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہر ٹیم کے پاس کم بیک کرنے کا موقع ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں لڑکوں کو یہی کہوں گا کہ کیا ہوا اس کو بھول جائیں، ہمیں ایک ہو کر آگے بڑھنا ہو گا، جو ہم اس سے بہتر کر سکتے ہیں وہ کرنا ہو گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں