20

وزیراعظم عمران خان کے دورہ امریکہ سے چند روز قبل ہی قادیانی وفد کی امریکی صدر ٹرمپ سے ملاقات،بڑے سوال اُٹھادیئے گئے

چنیوٹ(آن لائن) دینی جماعتوں نے امریکی صدر ٹرمپ سے وزیراعظم پاکستان عمران خان کی ملاقات سے چند روز قبل امریکہ اور پاکستان میں قادیانیوں کی بڑھتی ہوئی ریشہ دوانیوں پر گہری تشویش کا اظہارکیاہے اورکہاہے کہ بین الاقوامی سازشوں کے ذریعے پاکستان میں قادیانیت کو پرموٹ کیاجارہاہے جو ملک وملت کے لیے زہر قاتل ہے۔مجلس احراراسلام پاکستان کے امیرمرکزیہ سید عطاء المہیمن بخاری نے مشہور عبدالشکور قادیانی کی امریکہ میں امریکی صدر ٹرمپ سے ملاقات اور
دہائی کو اسلام اور وطن دشمنی قرار دیتے ہوئے کہاہے کہ امریکہ جاکر پاکستان اوردستورپاکستان کے خلاف منفی پراپیگنڈہ قادیانیوں کا وطیرہ ہے اوروطن دشمنی

کا مظہربھی۔انہوں نے کہاکہ دستور پاکستان میں لاہوری وقادیانی مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قراردیاگیاہے اوریہ پارلیمنٹ کا فیصلہ ہے جو طویل بحث وتمحیص کے بعد متفقہ طورپرکیاگیا۔مجلس احراراسلام پاکستان کے جنرل سیکرٹری عبداللطیف خالدچیمہ نے کہاہے کہ پاکستان میں اقلیتوں کے خلاف کسی قسم کی زیادتی روانہیں رکھی جارہی،لیکن آئین پاکستان کے مندرجات کو دل وجان سے تسلیم کرنا ہرپاکستانی شہری کی ذمہ داری ہے اس لیے قادیانیوں کو یہ حق نہیں دیاجاسکتاکہ وہ اپنے آپ کو احمدی مسلم لکھیں۔مجلس احراراسلام پاکستان کے نائب امیر سید محمد کفیل بخاری نے کہاہے کہ عبدالشکور قادیانی جوکہ چناب نگر کا رہائشی ہے اس کو کس کے ایماء پر جیل سے رہائی ملی اوریہ امریکہ پہنچا،اس کی اعلیٰ سطحی تحقیقات ہونی چاہئیں۔انہوں نے کہاکہ قادیانیوں کی طرف سے صدر ٹرمپ تک رسائی اوروہاں پاکستان کے خلاف واویلا اس بات کا پتہ دیتاہے کہ قادیانیوں کو یہودونصاریٰ ہی سپانسر کررہے ہیں۔علاوہ ازیں متحدہ تحریک ختم نبوت رابطہ کمیٹی پاکستان کے رہنماؤں نے کہاہے کہ چناب نگرکے رہائشی عبدالشکورقادیانی کا پاکستان سے امریکہ پہنچناقادیانی سازشوں کاشاخسانہ ہے۔قادیانی امریکہ،انڈیا اور اسرائیل کے مہرے بنے ہوئے ہیں۔رابطہ کمیٹی نے اسلام آباد کے قریب باہتر کے مقام پر قادیانیوں کی طرف سے
وسیع رقبے حاصل کرنے کو حکومت کی قادیانیت نوازی قرار دیااور کہاہے کہ قادیانی جن مورچوں میں بیٹھ کر سنگ ریزی کررہے ہیں وہ مورچے امریکی ہیں اور امریکہ اسلام اور پاکستان کا ازلی دشمن ہے۔ختم نبوت رابطہ کمیٹی کے رہنماؤں نے یہ بھی کہاکہ وزیراعظم پاکستان عمران خان کے امریکی دورے اور صدر ٹرمپ سے ملاقات سے چند روز پہلے اس قسم کی سرگرمیوں نے اہل پاکستان میں تشویش پیداکی ہے۔
دریں اثناء انٹر نیشنل ختم نبوت موومنٹ پاکستان کے نائب امیر مولانا قا ری شبیر احمد عثمانی نے مرکزی جا مع مسجد نور اسلام چناب نگر میں جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہو ئے کہا کہ وزیر اعظم کے دورہ امریکہ سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے پاکستانی عدالت سے سزا یافتہ قادیانی کی ملاقات ملکی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ ہے۔پاکستان کی بیوروکریسی میں بڑھتا ہوا قادیانی اثر رسوخ ملک کیلئے نیک شگون نہیں۔
بین الا قوامی سازش کے تحت پاکستان میں قادیانیوں کو پرو موٹ کیا جا رہا ہے جو ملک وملت کے لئے زہر قاتل ہے،چناب نگر کا رہائشی عبدالشکور کی امریکی صدر سے ملا قات اسلام و ملک دشمنی ہے،ان کا کہنا تھا کہ پاکستان و اسلام کے خلاف پروپیگنڈہ کر نا قادیانیوں کا وطیرہ ہے دستور پاکستان میں قا دیانی و لا ہو ری گروپ کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا یہ پارلیمنٹ کا فیصلہ ہے جو بحث کے بعد متفقہ طور پر منظور کیا گیا،انہوں نے کہا کہ پاکستان میں اقلیتیں بالکل محفوظ ہیں
بلکہ اسلام اقلیتوں کا سب سے بڑا محافظ ہے اور پاکستان کا قانون بھی،قادیانی پاکستانی قانون کا ماننے سے انکاری ہیں اس کے ساتھ ہر پاکستانی کی بھی ذمہ داری ہے کہ پاکستانی آئین و قانون کو دل و جان سے تسلیم کرے،انہوں نے کہا کہ عبدالشکور قا دیانی جو کہ چناب نگر کا رہائشی ہے اس کو کس کے ایماء پر جیل سے رہائی ملا اور یہ کیسے امریکہ جا پہنچا اور امریکی صدر کو جا ملا اس کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کی جائیں،انہوں نے کہا کہ پاکستانی عدالت سے سزا یا فتہ شخص توہین رسالت پر
مبنی لٹر یچر کی فروخت پر اس کو سزا ملی،جس کو اتنی جلدی باہر بھیج دیا گیا، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کر کے پاکستان کی اعلیٰ عدلیہ و آئین پاکستان بارے منفی پراپیگنڈا کیا شکو ر پر بغاوت کا مقدمہ درج کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے یہ آئین پاکستان سے بغاوت ختم نبوت سے غداری ہے،انہوں نے کہا کہ سوال یہ ہے کہ قادیانی جو اپنی آئینی حیثیت تسلیم کرنے سے کھلم کھلا انکاری ہیں اور مسلمان اکثریت کے حقوق پر ڈاکہ ڈال کر ان کے انسانی حقوق کو پامال کرتے ہیں اور ملازمتیں اور دیگر مفادات و آسائشیں سمیٹتے ہیں۔وہ کیوں فرضی مظالم کا ڈھونڈو را پیٹتے ہیں۔وہ اس لیے کہ وہ پاکستان کو عالمی سطح پر بدنام کرنے ایجنڈہ پر کام کر رہے ہیں۔عمران خان کے امریکی دورہ سے پہلے ایک عام قادیانی کو اہم رنما کی حیثیت سے صدر ٹرمپ کا پذیرائی دینا آنے والے حالات کو بہت واضح طور پر دکھا رہا ہے۔پاکستان پر بیرونی دباؤ ڈلوا کر پاکستان کی سلامتی کو خطرات سے دوچار کرنے کے منصوبے کو زیر عمل لایا جا رہا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں