5

وزیرِاعظم عمران خان کی زیر صدارت حکومت کی معاشی ٹیم کا اجلاس،اہم فیصلوں کی منظوری دے دی گئی

اسلام آباد(آن لائن) وزیرِاعظم عمران خان کی زیر صدارت حکومت کی معاشی ٹیم کا اجلاس پیر کو یہاں منعقد ہوا۔ اجلاس میں ملکی معاشی صورتحال، اعلیٰ عدالتوں میں ایف بی آر سے متعلقہ زیر التوا کیسز کے حوالہ سے پیشرفت،  برآمد کنندگان کے ٹیکس ریفنڈز کی ادائیگیوں، ترکمانستان افغانستان پاکستان انڈیا (تاپی) گیس پائپ لائن منصوبے میں پیشرفت، نان ٹیکس ریونیو بڑھانے کے سلسلہ میں اقدامات اور ترقیاتی منصوبوں میں پیشرفت کا باقاعدگی سے جائزہ لینے کیلئے اٹھائے گئے اقدامات پر بریفنگ دی گئی۔
وزیراعظم  آفسکے میڈیا ونگ سے جاری بیان کے مطابق اجلاس کو بتایا گیا کہ جولائی سے نومبر

کے مہینوں کیلئے سامنے آنے  والے اعدادوشمارکے مطابق  برآمدات  کے حجم اور ڈالر کے اعتبار سے آمدن میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ برآمدات  میں پچھلے سال کے مقابلے میں اس سال اکتوبر کے ماہ میں 6 فیصد اضافہ جبکہ نومبر کے مہینے میں 9.6 فیصد اضافہ سامنے  آیاہے۔وزیرِاعظم نے اس مثبت رجحان پر اطمینان کا اظہار کیا۔ اٹارنی جنرل نے اجلاس کو سپریم کورٹ، اسلام آباد ہائی کورٹ، لاہور لائی کورٹ، سندھ ہائی کورٹ اور پشاور ہائی کورٹ میں ایف بی  آرسے متعلقہ زیر التواء  کیسز پر تفصیلی طور پر بریف کیا۔ اٹارنی جنرل نے بتایا کہ اعلیٰ عدلیہ میں ایف بی   آر سے متعلق1089 کیسز میں سے 551 کا فیصلہ ہو چکا ہے جبکہ 285 مقدمات زیر التواء  ہیں، دیگر مقدمات میں یا تو فیصلہ محفوظ ہے یا زیر سماعت ہیں۔وزیرِاعظم نے اٹارنی جنرل کو ہدایت کی کہ زیر التواء  کیسز کے جلد از جلد حل کیلئے کوششیں تیز کی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ ایف بی  آر سے متعلقہ مقدمات میں حکومت کا نقطہ نظر مؤثر انداز میں عدالت کے سامنے رکھنے کیلئے اٹارنی جنرل  آفس کو درکار تمام وسائل فراہم کئے جائیں گے۔ وزیرِاعظم نے کہا کہ مقدمات کے جلد حل سے کاروباری برادری کے مسائل حل ہوں گے اور کاروباری معاملات میں آسانی پیدا ہو گی۔چیئرمین ایف بی  آر کی جانب سے ایکسپورٹرز کے ریفنڈز کی ادائیگیوں کے حوالہ سے کئے جانے والے اقدامات پر وزیرِاعظم کو تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
وزیرِاعظم نے ایف بی آر کو ہدایت کی کہ ریفنڈز کی ادائیگیوں کے سلسلہ میں متعارف کرائے جانے والے نظام کو مزید  آسان بنایا جائے تاکہ ایکسپورٹرز خصوصاً چھوٹے اور درمیانے درجے کے ایکسپورٹرز کو بقایا جات کی وصولی میں کسی قسم کی دقت پیش نہ  آئے۔وزیراعظم نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مشکل معاشی حالات کے باوجود حکومتی اقدامات کے نتیجہ میں معاشی استحکام آیا ہے اور کاروباری طبقہ کے اعتماد میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاشی استحکام کے نتیجہ میں کارباری برادری کے اعتماد اور مثبت جذبات کو مزید تقویت دینے کیلئے ضروری ہے کہ
ایکسپورٹرز اور خصوصاً چھوٹے اور درمیانے درجے کے تاجروں کو ہر ممکنہ سہولت فراہم کی جائے اور ان کیلئے آسانیاں  پیدا کی جائیں تاکہ ان کی حوصلہ افزائی ہو اور ان کو مالی وسائل کی قلت پیش نہ  آئے۔معاون خصوصی برائے پٹرولیم ندیم بابر نے تاپی گیس پائپ لائن کی پیشرفت سے شرکاء  کو  آگاہ  کیا۔ سیکرٹری خزانہ نے نان ٹیکس ریونیو میں اضافہ کے حوالہ سے اجلاس کو بریفنگ دی۔ وزیرِاعظم نے نان ٹیکس ریونیو بڑھانے کے سلسلہ میں کوششوں کو سراہا۔ ترقیاتی منصوبوں پر عملدر  آمد اور ان کی پیشرفت پر باقاعدگی سے نظر رکھنے کیلئے سیکرٹری منصوبہ بندی نے بتایا کہ
ترقیاتی منصوبوں کا پہلا سہ ماہی جائزہ 21 اکتوبرسے یکم نومبر کے دوران لیا گیا جس میں تمام اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ تمام ترقیاتی منصوبوں پر بروقت عملدر آمداور ان کی بلاتعطل روانی کو یقینی بنائیں انہوں نے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں کا وسط سالہ جائزہ جنوری 2020ء  جبکہ سالانہ جائزہ اگست میں لیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ وزیرِاعظم کی ہدایت پر ترقیاتی منصوبوں کا ماہانہ جائزہ بھی لیا جا رہا ہے جس میں زمینی اور مالی پیشرفت کا بھی باقاعدگی سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ترقیاتی منصوبوں کی پیشرفت پر نظر رکھنے کیلئے  آن لائن نظام شروع کیا جا رہا ہے اور اس پورے نظام کو ڈیجیٹل کیا جا رہا ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ دور دراز علاقوں میں ان منصوبوں کی رفتار پر نظر رکھنے کیلئے سیٹلائٹ مانیٹرنگ بھی کی جا رہی ہے۔ سابق وزیرِ خزانہ شوکت ترین نے اجلاس کو لاہور میں ”فوڈبنک“کے اجراء  کے حوالہ سے پیشرفت سے  آگاہ  کیا۔ وزیرِاعظم نے مستحق افراد کو ان کی دہلیز پر کھانے کی فراہمی کے اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ حکومت اس منصوبے کی کامیابی کیلئے ہر ممکنہ سہولت فراہم کرے گی۔وزیرِاعظم نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ معاشی استحکام اور نوجوانوں اور ہنرمندوں کے نوکریوں کے مواقع پیدا کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس مقصد کیلئے   آؤٹ آف  باکس سوچ اور تجاویز پیش کی جائیں۔ وزیرِاعظم نے کہا کہ حکومت کی تمام تر توجہ عام آدمی  کو ریلیف فراہم کرنے پر مرکوز ہے۔
انہوں نے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں پر بلاتعطل پیشرفت کو یقینی بنانے سے جہاں معاشی عمل میں تیزی  آئے  گی وہاں نوجوانوں کیلئے نوکریوں کے مواقع پیدا ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ اس ضمن میں بین الوزارتی اور محکموں کے درمیان ربط و تعاون کو مزید بہتر بنانے پر خصوصی توجہ دی جائے۔ اجلاس میں وزیر برائے اقتصادی امور حماد اظہر، وزیرِ برائے نیشنل فوڈ سکیورٹی مخدوم خسرو بختیار، وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر، وزیرِ توانائی عمرایوب، مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ، وزیرِاعظم کے مشیر ڈاکٹر عشرت حسین، اٹارنی جنرل انور منصور خان، معاون خصوصی ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان، معاون خصوصی برائے سماجی تحفظ ڈاکٹر ثانیہ نشتر، معاون خصوصی ندیم بابر، چیئرمین سرمایہ کاری بورڈ ڈاکٹر زبیر گیلانی، گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر، سابق وزیرِ خزانہ شوکت ترین و دیگر سینئر افسران شریک تھے۔

موضوعات:

loading…

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں